مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ دُعَاءِ الرَّجُلِ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ باب: آدمی کو اس نام کے ذریعے بلایا جانا اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو
حدیث نمبر: 12894
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلَ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ وَأَحَبِّ كُنَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي غَيْرُ حَدِيثٍ فِيمَا يُصَفِّي الْوُدَّ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کسی شخص کو اس نام سے بلائیں جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ، یا اس کنیت سے بلائیں جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کے اس کے علاوہ اور احادیث آئیں گی جو اس شخص کے بارے میں ہوں گی جو محبت کو صاف ستھرا رکھتا ہے ، اگر اللہ نے چاہا ۔