مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12889
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وُلِدَتْ لِي اللَّيْلَةَ جَارِيَةٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّيْلَةُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَةُ مَرْيَمَ ، سَمِّهَا مَرْيَمَ " . فَكَانَتْ تُسَمَّى مَرْيَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
ابوبکر بن ابومریم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات مجھ پر سورت مریم نازل ہوئی ہے ، تو تم اس بچی کا نام مریم رکھو تو اس بچی کا نام مریم رکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔