مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ باب: کون سے نام رکھنا مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 12846
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَبْرَةَ : ¤ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ذَهَبَ مَعَ جَدِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُ ابْنِكَ ؟ " . فَقَالَ : عَزِيزٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُسَمِّهِ عَزِيزًا ، وَلَكِنْ سَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ : عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَالْحَارِثُ " . ¤محمد محی الدین
خیثمہ بن عبدالرحمن بن سبرہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے دادا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عزیز ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے عزیز نام نہ دو ، بلکہ تم اس کا نام عبدالرحمن رکھو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سب سے بہتر نام عبداللہ ، عبدالرحمن اور حارث ہیں ۔