حدیث نمبر: 12819
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : اجْتَمَعَ أَشْرَافُ قُرَيْشٍ عِنْدَ بَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، وَتِلْكَ الْعَبِيدُ وَالْمَوَالِي مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ آذِنُهُ ، فَأَذِنَ لِبِلَالٍ وَصُهَيْبٍ وَغَيْرِهِمَا وَتَرَكَ الْآخَرِينَ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ ، إِنَّهُ أَذِنَ لِهَذِهِ الْعَبِيدِ ، وَتَرَكَنَا جُلُوسًا بِبَابِهِ لَا يَأْذَنُ لَنَا ! فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو - وَكَانَ رَجُلًا عَاقِلًا - : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى الَّذِي فِي وُجُوهِكُمْ ، فَإِنْ كُنْتُمْ غِضَابًا فَاغْضَبُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، دُعِيَ الْقَوْمُ وَدُعِيتُمْ ، فَأَسْرَعُوا وَأَبْطَأْتُمْ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَمَا سُبِقْتُمْ إِلَيْهِ مِنَ الْفَضْلِ أَشُدُّ عَلَيْكُمْ فَوْتًا مِنْ بَابِكُمُ الَّذِي تَنَافَسْتُمْ عَلَيْهِ . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : وَاللَّهِ ، لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَبْدًا أَسْرَعَ إِلَيْهِ كَعَبْدٍ أَبْطَأَ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ قریش کے کچھ معززین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس اکٹھے ہوئے ، ان لوگوں میں حارث بن ہشام ، ابوسفیان بن حرب اور سہیل بن عمرو شامل تھے اور اس کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ غلام یا آزاد شدہ غلام بھی تھے ، پھر اطلاع دینے والا شخص باہر آیا اور اس نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں کو اجازت دیدی ہے ، اور باقی لوگوں کو ابھی نہیں دی ، ابوسفیان نے کہا: میں نے آج کی طرح کا دن کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے غلاموں کو اجازت دیدی ہے اور ہمیں اپنے دروازے پر بیٹھا چھوڑ دیا ہے ، اور ہمیں اجازت نہیں دی ، تو سہیل بن عمرو جو ایک عقل مند شخص تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! تمہارے چہروں کی جو صورت حال ہے ۔ وہ میں دیکھ رہا ہوں ، اگر تم نے غضبناک ہونا ہے ، تو تم اپنی ذات کے حوالے سے غضبناک ہو ، کیونکہ ان لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی اور تمہیں بھی دعوت دی گئی تھی ، تو ان لوگوں نے ( دعوت قبول کرنے میں ) جلدی کی اور تم لوگوں نے تاخیر کی ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تمہیں جو فضیلت نصیب نہیں ہوئی وہ اس سے زیادہ شدید ہے ، جو تم اس دروازے پر ( اجازت نہ ملنے پر ) غصہ کر رہے ہو ۔ حسن بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف تیزی سے آنے والے بندے کو ، اس بندے کی مانند نہیں بنایا ہے ، جو اس کی طرف تاخیر سے آتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6038)»