مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الِاسْتِئْذَانِ وَفِيمَنِ اطَّلَعَ فِي دَارٍ بِغَيْرِ إِذْنٍ باب: اجازت مانگنے کا بیان اور جو شخص اجازت لیے بغیر گھر میں جھانکے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوهَا مِنْ جَوَانِبِهَا ، فَاسْتَأْذِنُوا ، فَإِنْ أُذِنَ لَكُمْ فَادْخُلُوا ، وَإِلَّا فَارْجِعُوا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ هَذَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم گھروں کے دروازے کے بالکل سامنے نہ آؤ ، بلکہ اطراف میں آؤ اور پھر اجازت مانگو اگر تمہیں اجازت مل جائے ، تو داخل ہو جاؤ ورنہ واپس چلے جاؤ ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ایک اور حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالرحمن بن عرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔