مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ رَدَّ السَّلَامَ سِرًّا باب: اس شخص کا بیان جو پست آواز میں سلام کا جواب دے
وَعَنْ أُمِّ طَارِقٍ - مَوْلَاةُ سَعْدٍ - قَالَتْ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ ، فَسَكَتَ سَعْدٌ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ، ثُمَّ أَعَادَ ، فَسَكَتَ سَعْدٌ ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ : إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الطِّبِّ فِي بَابِ الْحُمَّى . ¤سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے ، آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر آپ نے اجازت طلب کی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر آپ نے اجازت طلب کی ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور عرض کی کہ ہم نے صرف اس لئے آپ کو اجازت نہیں پیش کی تھی کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ مزید ( سلام کرتے رہیں ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ پوری روایت کتاب الطب میں بخار سے متعلق باب میں ہے ۔