حدیث نمبر: 12753
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ - أَوْ غَيْرِهِ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَقَالَ سَعْدٌ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . وَلَمْ يَسْمَعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ ، فَرَجَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي ، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِ زَبِيبًا ، فَأَكَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : ¤ " أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : عَنْ أَنَسٍ - وَلَمْ يَقُلْ : أَوْ غَيْرِهِ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ الْأَنْصَارَ ، فَإِذَا جَاءَ إِلَى دُورِ الْأَنْصَارِ جَاءَ صِبْيَانُ الْأَنْصَارِ حَوْلَهُ لَهُ ، فَيَدْعُو لَهُمْ ، وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ سَعْدٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . فَرَدَّ سَعْدٌ فَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ تَسْلِيمَاتٍ ، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا انْصَرَفَ ، فَرَجَعَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ثابت بنانی ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، یا شاید کسی اور کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا السلام علیکم ورحمتہ اللہ ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ، لیکن ان کا جواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی نہیں دیا ( یعنی انہوں نے پست آواز میں جواب دیا تھا : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تینوں مرتبہ جواب دیا ، لیکن اتنی آواز میں نہیں دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دیتا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر موجود تھے ) آپ واپس چلے گئے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جب بھی سلام کیا ، تو وہ میرے کانوں تک پہنچا اور میں نے بھی آپ کو جواب دیا ، لیکن میں نے جواب بلند آواز میں نہیں دیا کہ آپ سن سکتے ، مجھے یہ بات پسند تھی کہ آپ بکثرت سلام کرتے رہیں ، اور آپ کی طرف سے برکت نصیب ہو ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں لے گئے اور آپ کی خدمت میں زبیب پیش کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا ، پھر جب آپ کھا کر فارغ ہوئے تو آپ فرمایا : ” نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے ، فرشتوں نے تمہارے لئے دعائے مغفرت کی ہے ، اور روزہ داروں نے تمہارے ہاں افطاری کی ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ۔ انہوں نے یہ کلمات نقل نہیں کئے ہیں کہ یا ان کے علاوہ کسی اور سے بھی منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ، جب آپ انصار کے کسی محلے میں آتے تھے ، تو انصار کے بچے آپ کے اردگرد آ جاتے تھے ، آپ ان کے لئے دعا کرتے تھے ، آپ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور سلام کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے ، آپ نے ان لوگوں کو سلام کیا اور فرمایا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : لیکن اتنی اونچی آواز میں نہیں دیا کہ وہ آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جاتی ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ سے زیادہ سلام نہیں کرتے تھے ، اگر آپ کو اندر آنے کی درخواست کی جاتی تھی تو ٹھیک ہے ، ورنہ آپ واپس تشریف لے جاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2007) اخرجه احمد فى المسند (138/3)»