مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِّ السَّلَامِ وَالرَّدِّ باب: سلام کرنے اور جواب دینے کی حد
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : ¤ " يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ " . فَقُلْتُ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، وَذَهَبَتْ تَزِيدُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَى هَذَا انْتَهَى السَّلَامُ " ، فَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے عائشہ ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے ، میں نے کہا: وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میں ابھی مزید کچھ اور کہنا چاہتی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں پر سلام ختم ہو جاتا ہے ، تو انہوں نے ( یعنی سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے ) یہ کہا: اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں آپ پر ہوں اے اہل بیت ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔