مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِّ السَّلَامِ وَالرَّدِّ باب: سلام کرنے اور جواب دینے کی حد
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ¤ فَجَاءَ الثَّانِي فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . ¤ وَجَاءَ الثَّالِثُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَعَلَيْكُمْ . ¤ وَأَبُو الْفَتَى جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا ، وَلَمْ تَزِدِ ابْنِي شَيْئًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وَجَدْنَا لَهُ مِنْ زِيَادَةٍ ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : نَافِعُ بْنُ هُرْمُزٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تین آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان میں سے ایک نے السلام علیکم کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے و علیک ورحمتہ اللہ کہا: ، دوسرا آیا تو اس نے کہا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا: ، تیسرا آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہا: ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے وعلیکم کہا: ۔ اس نوجوان کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اس نے کہا: آپ نے فلاں اور فلاں کو جواب دیتے ہوئے اضافہ کیا ، لیکن میرے بیٹے کو جواب دیتے ہوئے کوئی اضافہ نہیں کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمیں اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں ملا ، تو ہم نے اسے اس کی مانند جواب دیدیا ، جو اس نے کہا: تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔