مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْبُدَاءَةِ بِالسَّلَامِ باب: سلام میں پہل کرنا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ مَنْ لَقِيَهُ ، قَالَ : فَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا سَبَقَهُ بِالسَّلَامِ إِلَّا يَهُودِيًّا مَرَّةً ، اخْتَبَأَ لَهُ خَلْفَ أُسْطُوَانَةٍ ، فَخَرَجَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : وَيْحَكَ يَا يَهُودِيُّ ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ لَهُ : رَأَيْتُكَ رَجُلًا تُكْثِرُ السَّلَامَ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ فَضْلٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِهِ . فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : وَيْحَكَ ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ السَّلَامَ تَحِيَّةً لِأُمَّتِنَا ، وَأَمَانًا لِأَهْلِ ذِمَّتِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ ہر ملنے والے کو سلام کیا کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں علم کسی نے سلام میں ان سے سبقت کی ہو ، البتہ ایک یہودی کا معاملہ مختلف ہوا ، وہ ان کے سامنے آنے سے چھپ گیا ، وہ ایک ستون کے پیچھے چھپ گیا تھا ، جب وہ وہاں سے گزرے تو اس نے انہیں پہلے سلام کر دیا ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو اے یہودی ! تم نے ایسا کیوں کیا ہے ۔ اس نے ان سے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بکثرت سلام کرتے ہیں ، اور مجھے یہ پتہ ہے کہ اس کام میں فضیلت پائی جاتی ہے ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس فضیلت کو حاصل کر لوں ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سلام کو ہماری امت کے لئے تحیت اور ہمارے ذمیوں کے لئے امان بنایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ مقارب الحدیث ہے ۔