مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْبُدَاءَةِ بِالسَّلَامِ باب: سلام میں پہل کرنا
وَعَنِ الْأَغَرِّ - أَغَرِّ مُزَيْنَةَ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ لِي بِجُزْءٍ مِنْ تَمْرٍ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَمَطَلَنِي بِهِ ، فَكَلَّمْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اغْدُ مَعَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَخُذْ لَهُ ثَمَرَهُ " . فَوَعَدَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ ، فَوَجَدْتُهُ حَيْثُ وَعَدَنِي ، فَانْطَلَقْنَا ، فَكُلَّمَا رَأَى أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَعِيدٍ سَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمَا تَرَى مَا يُصِيبُ الْقَوْمُ عَلَيْكَ مِنَ الْفَضْلِ ، لَا يَسْبِقُكَ إِلَى السَّلَامِ أَحَدٌ . فَكُنَّا إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ بَادَرْنَاهُ بِالسَّلَامِ ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحَدِ إِسْنَادِيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا اغر رضی اللہ عنہ ، جو اغر مزینہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے انصار کے پاس موجود ایک شخص سے کچھ کھجوریں لینے کا حکم دیا ، اس شخص نے مجھے دینے میں ٹال مٹول کی ، میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! تم کل اس کے ساتھ جانا اور اس کو کھجوریں دلوا دینا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ مسجد میں ملنے کا وعدہ کیا کہ جب ہم صبح کی نماز پڑھ لیں گے تو چلیں گے ، میں نے انہیں وعدے کے مطابق پایا ، پھر ہم روانہ ہوئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو بھی شخص دور سے دیکھتا تھا ، وہ انہیں سلام کرتا تھا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات دیکھی ہے کہ لوگ تم پر فضیلت حاصل کیے جا رہے ہیں ، ہر شخص سلام میں تم سے سبقت لے جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو پھر جو بھی شخص ہمارے سامنے آتا تھا ، اس کے سلام کرنے سے پہلے ہی ہم اسے سلام کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔