مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّلَامِ وَإِفْشَائِهِ وَفَضْلِهِ باب: سلام کرنے ، اس کو پھیلانے اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا تَحَابُّونَ عَلَيْهِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تَرَاحَمُوا " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّنَا رَحِيمٌ . قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ ، وَلَكِنَّ رَحْمَةَ الْعَامَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ فِي كِتَابِ التَّوْبَةِ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے ، کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ؟ جس کی وجہ سے تم ایک دوسرے سے محبت رکھو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے درمیان سلام کو پھیلاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک ایک دوسرے پر رحم نہیں کرتے ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ہم سب رحم کرنے والے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے ساتھی پر رحمت کرے ، بلکہ یہ عمومی رحمت مراد ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کا ایک طریق کتاب التوبہ میں بھی ہے ۔