مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَاهَا ، وَبِبَيْتٍ فِي أَسْفَلِهَا ، لِمَنْ تَرَكَ الْجَدَلَ وَهُوَ مُحِقٌّ ، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ ضَاحِكٌ ، وَحَسُنَ خُلُقُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو حَاتِمٍ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں جنت کے باغات میں ایک گھر کا اور اس کے بالائی حصے میں ایک گھر کا اور اس کے زیریں حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو حق پر ہونے کے باوجود بحث کو ترک کر دیتا ہے ، اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے ، جبکہ وہ مذاق کے طور پر ہو ، اور اس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابوحاتم سوید بن ابراہیم ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔