مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ ، لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًا ، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ، وَحَسُنَ خُلُقُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت کے اطراف کے حصے میں ایک گھر کا اور جنت کے درمیان میں ایک گھر کا اور جنت کے بالائی حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو بحث کرنے کو ترک کر دیتا ہے ، اگرچہ وہ حق پر ہو ، اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اگرچہ وہ مزاح کے طور پر ہو ، اور جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حصین ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ تمیمی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔