مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12665
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ ، وَأَبْعَدَكُمْ عَنِّي فِي الْآخِرَةِ أَسَاوِئُكُمْ أَخْلَاقًا ، الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ اور روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخرت میں میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ، اور آخرت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور تم میں سے مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق برے ہوں گے ، وہ لوگ جو بکثرت کلام کرنے والے اور بنا سنوار کے منہ چبا چبا کے باتیں کرنے والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔