مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ خُرُوجِ النَّارِ باب: آگ کا نکلنا
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بُسْرٍ أَوْ بِشْرٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ ، تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ ، تَسِيرُ النَّهَارَ ، وَتُقِيمُ اللَّيْلَ ، تَغْدُو وَتَرُوحُ ، يُقَالُ : غَدَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُوا ، قَالَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ قِيلُوا ، رَاحَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ رُوحُوا ، مَنْ أَدْرَكَتْهُ أَكَلَتْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَافِعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا رافع بن بسر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بشر سلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایک آگ ” حبس سیل “ کے مقام سے نکلے گی اور وہ یوں چلے گی جیسے سست رفتار اونٹ ہوتا ہے ، وہ دن کے وقت چلتی رہے گی ، رات کے وقت ٹھہر جائے گی ۔ وہ صبح جائے گی شام کو جائے گی ، یہ بات کہی جائے گی : آگ صبح کے وقت گئی ہے ، لوگو ! تو تم بھی چلو ، آگ نے آرام کیا ہے : اے لوگو ! تم لوگ آرام کرو ، آگ شام کو روانہ ہو گئی ہے ۔ اے لوگو ! تم روانہ ہو جاؤ ، جس شخص کو وہ پائے گی اس کو کھا لے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رافع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔