حدیث نمبر: 12600
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَتَعَجَّلَ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِتْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ : تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ . فَقَالَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " . ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوَرَّاقِ ، تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ حَبِيبِ بْنِ جَمَّازٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ، ہم نے ذوالحلیفہ کو دیکھا تو کچھ افراد مدینہ منورہ کی طرف جلدی روانہ ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں بسر کی ، ہم نے بھی رات وہیں بسر کی ، صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی : وہ مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ مدینہ کی طرف اور عورتوں کی طرف جلدی چلے گئے ہیں ، یہ لوگ عنقریب مدینہ کو چھوڑ دیں گے ، جب کہ وہ اس سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ اچھی حالت میں ہو گا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : افسوس کہ جب یمن سے ایک آگ نکلے گی جو وراق کے پہاڑ سے نکلے گی اور اُس کے ذریعے بصریٰ میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی ، یوں جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حبیب بن جماز کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12600
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (144/5)»