مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ " . قِيلَ : وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَيْنَاتُ ، وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری زمانے میں زمین میں دھنسائے جانے ، پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب گانے بجانے کے آلات اور گانے بجانے والی عورتیں ظاہر ہو جائیں گی ( یعنی زیادہ ہو جائیں گی ) اور شراب کو حلال قرار دیدیا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔