حدیث نمبر: 12589
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ " . قِيلَ : وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَيْنَاتُ ، وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری زمانے میں زمین میں دھنسائے جانے ، پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب گانے بجانے کے آلات اور گانے بجانے والی عورتیں ظاہر ہو جائیں گی ( یعنی زیادہ ہو جائیں گی ) اور شراب کو حلال قرار دیدیا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5810)»