حدیث نمبر: 12576
وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ - يَعْنِي حُذَيْفَةَ بْنَ أَسِيدٍ - ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الدَّابَّةُ لَهَا ثَلَاثُ خُرُجَاتٍ مِنَ الدَّهْرِ : [ فَتَخْرُجُ ] خُرْجَةٌ فِي أَقْصَى الْيَمَنِ ، حَتَّى يَفْشُوَ ذِكْرُهَا فِي الْبَادِيَةِ وَلَا يَدْخُلَ ذِكْرُهَا الْقَرْيَةَ ، ثُمَّ تَكْمُنُ زَمَانًا طَوِيلًا بَعْدَ ذَلِكَ ، ثُمَّ تَخْرُجُ خُرْجَةً قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ ، فَيَفْشُو ذِكْرُهَا فِي أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَيَفْشُو ذِكْرُهَا فِي مَكَّةَ ، ثُمَّ تَمْكُثُ زَمَانًا طَوِيلًا ، ثُمَّ تَفْجَأُ النَّاسَ فِي أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ عَلَى اللَّهِ حُرْمَةً وَخَيْرِهَا وَأَكْرَمِهَا عَلَى اللَّهِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، لَمْ يَرُعْهُمْ إِلَّا نَاحِيَةَ الْمَسْجِدِ ، تَرْجُو مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ إِلَى بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنْ يَمِينِ الْخَارِجِ [ مِنَ الْمَسْجِدِ ] ، فَانْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا سِتًّا وَمَعًا ، وَثَبَتَ لَهَا عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَرَفُوا أَنَّهُمْ لَنْ يَعْجِزُوا اللَّهَ ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ تَنْفُضُ عَنْ رَأْسِهَا التُّرَابَ ، فَبَدَتْ فَجَلَتْ وُجُوهُهُمْ ، حَتَّى تَرَكَتْهَا كَأَنَّهَا الْكَوَاكِبُ الدُّرِّيَّةُ ، ثُمَّ وَلَّتْ فِي الْأَرْضِ لَا يُدْرِكُهَا طَالِبٌ وَلَا يُعْجِزُهَا هَارِبٌ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَقُومُ يَتَعَوَّذُ مِنْهَا بِالصَّلَاةِ فَتَأْتِيهِ ، فَتَقُولُ : أَيْ فُلَانُ ، الْآنَ تُصَلِّي ؟ فَيُقْبِلُ عَلَيْهَا بِوَجْهِهِ ، فَتَسِمُهُ فِي وَجْهِهِ ، وَيَذْهَبُ . وَتَجَاوَزُ النَّاسُ فِي دُورِهِمْ ، وَفِي أَسْفَارِهِمْ ، وَيَشْتَرِكُونَ فِي الْأَمْوَالِ ، وَيُعْرَفُ الْكَافِرُ مِنَ الْمُؤْمِنِ ، حَتَّى أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَقُولُ لِلْكَافِرِ : يَا كَافِرٌ اقْضِنِي حَقِّي ، وَحَتَّى أَنَّ الْكَافِرَ لَيَقُولُ لِلْمُؤْمِنِ : يَا مُؤْمِنُ اقْضِنِي حَقِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسریحہ رضی اللہ عنہ یعنی سیدنا حذیفہ بن اسید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دابۃ الارض تین مختلف زمانوں میں نکلے گا ، ایک مرتبہ وہ یمن کے دور دراز علاقے میں نکلے گا ، یہاں تک کہ اس کا تذکرہ ویرانے میں رہنے والے لوگوں میں ہو گا ، بستیوں میں اس کا تذکرہ نہیں ہو گا ، پھر وہ ایک طویل عرصے تک اس کے بعد چھپا رہے گا ، پھر وہ دوسری مرتبہ مکہ کے قریب نکلے گا ، اس وقت اس کا ذکر ویرانوں میں بھی ہو گا ، اور اس کا ذکر مکہ میں بھی ہو گا ، پھر وہ ایک طویل عرصہ تک ٹھہرا رہے گا ، پھر وہ لوگوں کے پاس اس وقت آئے گا ، جو اللہ کی مساجد میں سے حرمت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والی ہے ، سب سے زیادہ بہتری والی ہے ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہے ، اور وہ مسجد حرام ہے ، صرف مسجد کا کنارہ ان لوگوں کو سنبھال سکے گا ، بنو مخزوم والے دروازے کی طرف حجر اسود اور مقام ابراہیم کی درمیانی جگہ کی طرف سے وہ آئے گا ، وہ مسجد کے دائیں طرف سے آئے گا ، تو لوگ متفرق ہو کر اس سے دور جائیں گے ، مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے سامنے جمع رہے گا ، وہ لوگ یہ بات جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے ، وہ ان کے سامنے نکلے گا ، اس کے سر سے مٹی جھڑ رہی ہو گی ، وہ ظاہر ہو گا ، ان کے چہرے پریشان ہوں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں چھوڑے گا ، تو ان کے چہرے چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند ہوں گے ، پھر وہ زمین میں جائے گا ، کوئی پیچھا کرنے والا اس تک نہیں پہنچ سکے گا ، اور کوئی بھاگنے والا اس سے بچ نہیں سکے گا ، یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہو گا ، اور نماز کے ذریعے اس سے بچنا چاہے گا ، تو وہ اس کے پاس آئے گا اور کہے گا : اے فلاں اب تم نماز پڑھ رہے ہو ؟ پھر وہ سامنے سے اس کی طرف آئے گا ، اور اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا ، پھر وہ جائے گا ، تو لوگ اپنے علاقوں سے باہر نکل جائیں گے ، سفر کرنے لگیں گے ، اموال میں شراکت دار ہوں گے ، مومن کے مقابلے میں کافر کو پہچان لیا جائے گا ، یہاں تک کہ مومن شخص کافر سے کہے گا : اے کافر تم میرا حق مجھے ادا کرو اور کافر شخص مومن سے کہے گا : اے مومن تم میرا حق مجھے ادا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12576
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3035)»