مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ خُرُوجِ الدَّابَّةِ باب: دابۃ الارض کا نکلنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : أَلَا أُرِيكُمُ الْمَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَى أَنَّ الدَّابَّةَ تَخْرُجُ مِنْهُ " . فَضَرَبَ بِعَصَاهُ الشَّقَّ الَّذِي فِي الصَّفَا وَقَالَ : " إِنَّهَا ذَاتُ رِيشٍ وَزَغَبٍ ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ ثُلْثُهَا حُضْرُ الْفَرَسِ الْجَوَادِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَثَلَاثَ لَيَالٍ ، وَإِنَّهَا لَتَمُرُّ عَلَيْهِمْ إِنَّهُمْ لَيَفِرُّونَ مِنْهَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، فَتَقُولُ لَهُمْ : أَتَرَوْنَ الْمَسَاجِدَ تُنْجِيكُمْ مِنِّي ؟ فَتَخْطِمُهُمْ ، يُسَاقُونَ فِي الْأَسْوَاقِ وَيَقُولُ : يَا كَافِرُ ، يَا مُؤْمِنُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ جگہ نہ دکھاؤں جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے یہ چیز دیکھی ہے کہ دابۃ الارض اس میں سے نکلے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عصا صفا پہاڑ میں موجود اس خالی جگہ پر ڈالا اور فرمایا : وہ جانور پروں والا اور بالوں ( یا کمزور جلد ) والا ہو گا ، اس کا ایک تہائی حصہ یوں نکلے گا ، جتنی تیزی سے تیز رفتار گھوڑا جاتا ہے ، تین دن اور تین راتیں لگیں گے ، وہ لوگوں کے پاس سے گزرے گا ، لوگ اس سے بھاگ کر مساجد کی طرف جائیں گے ، تو وہ ان سے کہے گا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مسجدیں تمہیں مجھ سے بچا لیں گی ، پھر وہ ان کو نشان لگانا شروع کرے گا ، ان لوگوں کو بازار میں لایا گیا جائے گا ، تو وہ یہ کہے گا : اے کافر ! اے مومن ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔