مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِي ، قَالَ : لَقِيتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ؟ فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَةَ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ : أَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَمَا أَحْبَبْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ . خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤سوید بن حجیر بیان کرتے ہیں : میرے ماموں نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا چیز مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سوال مختصر کیا ہے اور بات اہم اور طویل دریافت کی ہے ، تم فرض نماز ادا کرو ، فرض زکوۃ ادا کرو ، بیت اللہ کا حج کرو ، تم جو پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ویسا کریں ، تو تم بھی اُن کے ساتھ وہی کرو ، اور جس چیز کے بارے میں تم یہ ناپسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرو ، اور اونٹنی کی لگام چھوڑ دو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔