حدیث نمبر: 124
وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " بَعَثَ اللَّهُ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : يَا عِيسَى ، قُلْ لِيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا إِمَّا أَنْ تُبَلِّغَ مَا أُرْسِلْتَ بِهِ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَإِمَّا أَنْ أُبَلِّغَهُمْ ، فَخَرَجَ يَحْيَى حَتَّى صَارَ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا وَأَحْسَنَ إِلَيْهِ وَأَعْطَاهُ ، فَانْطَلَقَ وَكَفَرَ نِعْمَتَهُ ، وَوَالَى غَيْرَهُ . وَإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ ، فَأَرَادُوا قَتْلَهُ فَقَالَ : لَا تَقْتُلُونِي ، فَإِنَّ لِي كَنْزًا وَأَنَا أَفْدِي نَفْسِي ، فَأَعْطَاهُمْ كَنْزَهُ وَنَجَا بِنَفْسِهِ . وَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَتَصَدَّقُوا ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَشَى إِلَى عَدُوِّهِ وَقَدْ أَخَذَ لِلْقِتَالِ جُنَّةً ، فَلَا يُبَالِي مِنْ حَيْثُ أُتِيَ . وَإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا الْكِتَابَ ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ قَوْمٍ فِي حِصْنِهِمْ صَارَ إِلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَقَدْ أَعَدُّوا فِي كُلِّ نَاحِيَةٍ مِنْ نَوَاحِيَ الْحِصْنِ قَوْمًا ، فَلَيْسَ يَأْتِيهِمْ عَدُوُّهُمْ مِنْ نَاحِيَةٍ مِنْ نَوَاحِي الْحِصْنِ إِلَّا وَبَيْنَ أَيْدِيهِمْ مَنْ يَدْرَؤُهُمْ عَنْهُمْ عَنِ الْحِصْنِ ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَا يَزَالُ فِي أَحْصَنِ حِصْنٍ " . وَلَمْ أَرَ فِي كِتَابِي الْخَامِسَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا شَيْخَ الْبَزَّارِ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ، پانچ کلمات کے ہمراہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے عیسیٰ ! تم یحیی بن زکریا سے یہ کہو ! کہ میں نے تمہیں جس چیز کے ہمراہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ہے ، یا تو تم اس کی تبلیغ کر دو ، یا میں انہیں تبلیغ کر دیتا ہوں ، تو سیدنا یحییٰ علیہ السلام نکلے اور بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو کسی غلام کو آزاد کرتا ہے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اسے مال وغیرہ دیتا ہے ، وہ غلام چلا جاتا ہے اور اس شخص کی نعمت کا انکار کر دیتا ہے اور اس شخص کی بجائے کسی اور سے تعلق قائم کر لیتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں یہ بھی حکم دیتا ہے کہ تم لوگ نماز قائم کرو ! اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جسے دشمن قید کر لیتا ہے اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ شخص یہ کہتا ہے : تم لوگ مجھے قتل نہ کرو ، میرے پاس خزانہ موجود ہے ، اور میں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں گا ، تو وہ شخص ان لوگوں کو اپنا خزانہ دیتا ہے اور اپنی ذات کو نجات دلوا دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ تم لوگ صدقہ کرو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو دشمن کی طرف جاتا ہے اور جنگ کے لئے ڈھال رکھتا ہے ، وہ اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اس پر کس طرف سے حملہ ہو گا ؟ اللہ تعالی تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم لوگ کتاب کی تلاوت کرو ! اس کی مثال ان لوگوں کی مانند ہے ، جو اپنے قلعے میں ہوتے ہیں ، اُن کا دشمن ان کی طرف جاتا ہے ، تو ان لوگوں نے قلعے کے ہر طرف لوگ تیار رکھے ہوتے ہیں ، تو دشمن قلعہ کے جس بھی طرف سے آتا ہے ، اس کے سامنے ایسے افراد موجود ہوتے ہیں ، جو اسے قلعے کی طرف جانے سے روکتے ہیں ، تو یہ مثال اُس شخص کی ہے جو ، قرآن پڑھتا ہے ، تو وہ سب سے زیادہ مضبوط قلعے میں ہوتا ہے “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تحریر میں ، پانچویں چیز کا ذکر نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ امام بزار کے استاد حسن بن محمد بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 124
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 337»