حدیث نمبر: 12492
وَعَنْ شُعَيْبِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : حَجَجْنَا فَمَرَرْنَا بِطَرِيقِ الْمُنْكَدِرِ ، وَكَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ فِيهِ ، فَطَلَبْنَا الطَّرِيقَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ نَحْنُ بِأَعْرَابِيٍّ كَأَنَّمَا نَبَعَ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ لِي : يَا شَيْخُ ، تَدْرِي أَيْنَ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : أَنْتَ بِالذَّوَائِبِ ، وَهَذَا التَّلُّ الْأَبْيَضُ الَّذِي تَرَاهُ عِظَامُ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ وَتَغْلِبَ ، وَهَذَا قَبْرُ كُلَيْبٍ أَخِي مُهَلْهَلٍ . ثُمَّ قَالَ لِي : هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَحِيفَةٌ يَسْمَعُ مِنْهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَذَهَبَ بِي إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مَعْصُوبِ الْحَاجِبَيْنِ بِعِصَابَةٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . فَقُلْتُ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَامَ قَوْمَةً لَهُ كَأَنَّهُ مُفْزَعٌ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ : بِأَبِي وَأُمِّي ، قُمْتَ كَأَنَّكَ مُفْزَعٌ ! قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدَّجَّالِينَ الثَّلَاثَةَ " . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : بِأَبِي وَأُمِّي ، قَدْ أَخْبَرْتَنَا عَنِ الدَّجَّالِ الْأَعْوَرِ وَعَنْ أَكْذَبِ الْكَذَّابِينَ ، فَمِنَ الْكَذَّابُ الثَّالِثُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ يَخْرُجُ فِي قَوْمٍ أَوَّلُهُمْ مَثْبُورٌ وَآخِرُهُمْ مَبْتُورٌ ، عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ دَائِمَةً فِي فِتْنَةٍ يُقَالُ لَهَا الْحَارِقَةُ ، وَهُوَ الدَّجَّالُ الْأَطْلَسُ يَأْكُلُ عِبَادَ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

شعیب بن عمر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کے لئے گئے ، ہم منکدر کے راستے سے گزرے ، لوگ وہی راستہ اختیار کر رہے تھے ، ہم نے راستہ تلاش کیا ، ابھی ہم وہاں موجود تھے کہ ہمارے سامنے ایک دیہاتی آیا ، یوں لگا جیسے وہ زمین سے نکل کے آیا ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا: اے شیخ ! تم جانتے ہو تم کہاں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ، اس نے کہا: تم ذوئب میں ہو ، اور یہاں جو تم سفید ٹیلہ دیکھ رہے ہو یہ بکر بن وائل اور تغلب کی ہڈیاں ہیں ، اور یہ مہلہل کے بھائی کلیب کی قبر ہے ، پھر اس نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم کسی ایسے شخص میں دلچسپی رکھتے ہو کہ جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والا صحیفہ موجود ہو کہ تم اس سے سماع کرو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو وہ مجھے ساتھ لے کے چمڑے کے خیمے کی طرف گیا ، وہاں ایک صاحب موجود تھے ، جنہوں نے پٹی کے ذریعے اپنی بھنویں باندھی ہوئی تھیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا عداء بن خالد بن عمرو بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں ضیاء کے شہسوار تھے ، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : ” ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میرے ماں باپ آپ آپ پر قربان ہوں آپ پریشانی کی حالت میں اٹھے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم تین دجالوں سے بچ کے رہنا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے ہمیں کانے دجال کے بارے میں تو بتایا ہے ، اور سب سے بڑے جھوٹے کے بارے میں بھی بتایا ہے ، تو یہ تیسرا جھوٹا کون ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا شخص ہے ، جو ایسی قوم میں نکلے گا ، جن کا ابتدائی حصہ ہلاک شدہ اور آخری حصہ دم کٹا ہو گا ، ان پر لعنت ہو گی اور وہ ہمیشہ اس فتنے میں رہیں گے جس کا نام حارقہ ہو گا ، اور وہ دجال اطلس ہو گا ، جو اللہ کے بندوں کو کھا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (14/18)»