مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَذَّابِينَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ . باب: قیامت سے پہلے آنے والے کذابین ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعویداروں ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12491
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا ، مِنْهُمُ الْأَسْوَدُ الْعَنْسِيُّ وَصَاحِبُ صَنْعَاءَ وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت سے پہلے تیس کذاب آئیں گے ، جن میں سے ایک اسود عنسی ہے ، اور ایک صنعاء کا رہنے والا شخص ہے ، اور ایک یمامہ والا شخص ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔