مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ أَمَامَ الدَّجَّالِ سُنُونَ خَوَادِعُ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَطَرُ ، وَيَقِلُّ فِيهَا النَّبْتُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : " مَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي أَحْسَنِهَا ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال سے پہلے کچھ سال ایسے آئیں گے جو قحط سالی کے ہوں گے ، ان میں بارش کثرت سے ہو گی ، لیکن پیداوار کم ہو گی ، اس دوران سچے شخص کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، اور جھوٹے کی اس وقت میں تصدیق کی جائے گی ، اس دوران خائن شخص کو امین بنایا جائے گا ، اور امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ، اور اس دوران رویبضہ کلام کریں گے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص جس کی کوئی پرواہ نہ کی جاتی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔