حدیث نمبر: 12466
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : شُكِيَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ الْفُرَاتُ . فَقَالُوا : إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَنْبَثِقَ عَلَيْنَا ، فَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ مَنْ يُسَكِّرُهُ . قَالَ : لَا أُسَكِّرُهُ ، فَوَاللَّهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَوِ الْتَمَسْتُمْ فِيهِ مِلْءَ طَسْتٍ مِنْ مَاءٍ مَا وَجَدْتُمُوهُ ، وَلَيَرْجِعَنَّ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ ، فَيَكُونُ فِيهِ الْمَاءُ وَالْمُسْلِمُونَ بِالشَّامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین

قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دریائے فرات کی شکایت کی گئی ، ہم نے کہا: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر سیلاب لے آئے گا ۔ اگر آپ اس کی طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس پر بن باندھ دے تو یہ مناسب ہو گا ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس کے پانی کو ضائع نہیں کروں گا ۔ اللہ کی قسم ! لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر تم اس زمانے میں ایک طشت پانی کا تلاش کرو گے ، تو وہ بھی نہیں ملے گا ، ہر پانی اپنے عنصر کی طرف لوٹ جائے گا ، اور وہاں پر پانی ہو گا ، اور ( اس وقت ) مسلمان شام میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ قاسم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8856)»