حدیث نمبر: 12465
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى مِنْ دِينِكُمُ الصَّلَاةُ ، وَلَيُصَلِّيَنَّ قَوْمٌ لَا دِينَ لَهُمْ ، وَلَيُنْزَعَنَّ الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ . قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا ؟ قَالَ : يُسْرَى عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَيَذْهَبُ مِنْ أَجْوَافِ الرِّجَالِ فَلَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تم اپنے دین میں جو چیز سب سے پہلے غیر موجود پاؤ گے وہ امانت ہے ، اور تمہارے دین میں سے آخر میں باقی رہ جانے والی چیز نماز ہے ، کچھ لوگ نماز ادا کریں گے ، جن کا کوئی دین نہیں ہو گا ، تم لوگوں کے درمیان میں سے قرآن کو الگ کر دیا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے عرض کی : اے ابوعبدالرحمن ! کیا ہم قرآن پڑھتے نہیں ہیں ، کیا ہم نے اسے کتاب کی شکل میں محفوظ نہیں کر لیا ہے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی جب یہ لوگوں کے سینوں سے رخصت ہو جائے گا اور پھر روئے زمین پر اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شداد بن معقل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔