مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نِهَايَةً يَنْتَهِي إِلَيْهَا ، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ أَقْبَلَ لَهُ ثَبَاتٌ وَأَنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَبْلُغَ نِهَايَتَهُ ، ثُمَّ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَآيَةُ ذَلِكَ [ أنْ تَكْثُرَ ] الْفَاقَةُ وَيُقْطَعَ حَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعُودُ عَلَيْهِ ، وَحَتَّى يَرَى الْغَنِيُّ أَنَّهُ لَا يَكْفِيهِ مَا عِنْدَهُ ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ يَشْكُو إِلَى أَخِيهِ وَابْنِ عَمِّهِ فَلَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، وَحَتَّى أَنَّ السَّائِلَ لَيَمْشِي بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ فَلَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَلِكَ خَارَتِ الْأَرْضُ خَوْرَةً لَا يَرَى أَهْلُ كُلِّ سَاحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا خَارَتْ بِسَاحَتِهِمْ ، ثُمَّ تَهْدَأُ عَلَيْهِمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ تَفْجَأُهُمُ الْأَرْضُ تَقِيءُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا . ¤ قِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا ؟ قَالَ : أَسَاطِينُ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، فَمِنْ يَوْمِئِذٍ لَا يُنْتَفَعُ بِذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطُّرُقِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اے لوگو ! تم پر ( حاکم وقت کی ) اطاعت کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے کیونکہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے ، جس کے بارے میں اُس نے یہ حکم دیا ہے ، تم لوگ جماعت میں جس چیز کو ناگوار سمجھتے ہو ، وہ اس سے بہتر ہے ، جسے تم علیحدگی میں پسند کرتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے ۔ اس کے لئے اس نے کوئی آخری حد مقرر کی ہے ، جس پر وہ ختم ہو جاتی ہے ، اسلام جب آیا تو اس کو ثبات حاصل تھا ، اور یہ عنقریب اپنی آخری حد تک پہنچ جائے گا ، یہ قیامت تک کم اور زیادہ ہوتا رہے گا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ فاقہ کثرت کے ساتھ ہو گا اور رزق منقطع ہو جائے گا ، یہاں تک کہ فقیر شخص کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا ، جو اس کو کچھ دے سکے ، یہاں تک کہ خوشحال شخص یہ سمجھے گا ، جو کچھ اس کے پاس ہے ۔ وہ اس کے لئے کفایت نہیں کرے گا ، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے چچا زاد کے سامنے اپنی فاقہ کشی کی شکایت کرے گا ، تو وہ اسے کچھ نہیں دے گا ، یہاں تک کہ ایک سائل پورا ہفتہ گھومتا رہے گا ، لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا ، جب اس طرح کی صورت حال ہو جائے گی تو زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی ۔ عرض کی گئی : اے ابوعبدالرحمن زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے مراد کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : سونے اور چاندی کے ٹکڑے اور اس وقت سے لے کر قیامت تک سونا یا چاندی سے آدمی نفع نہیں لے سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اس کے ایک طریق کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔