مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا صَلَّى صَلَاتَهُ نَادَاهُ رَجُلٌ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَرَهُ وَقَالَ : " اسْكُتْ " . حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " تَبَارَكَ رَافِعُهَا وَمُدَبِّرُهَا " . ثُمَّ رَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ : " تَبَارَكَ دَاحِيهَا وَخَالِقُهَا " . ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " . فَجَثَا رَجُلٌ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ : أَنَا بِأَبِي وَأُمِّي سَأَلْتُكَ . فَقَالَ : " ذَاكَ عِنْدَ حَيْفِ الْأَئِمَّةِ ، وَتَصْدِيقٍ بِالنُّجُومِ ، وَتَكْذِيبٍ بِالْقَدَرِ ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالصَّدَقَةُ مَغْرَمًا وَالْفَاحِشَةُ زِيَادَةً ، فَعِنْدَ ذَلِكَ هَلَكَ قَوْمُكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ نے نماز ادا کر لی تو ایک شخص نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا: کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور جھڑکا اور فرمایا : تم خاموش رہو ، پھر جب سفیدی پھیل گئی ، تو آپ نے نگاہ اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا : برکت والی ہے وہ ذات ، جس نے اسے بلند کیا ہے ، جو اس کی تدبیر کرتی ہے ، پھر آپ نے نگاہ زمین کی طرف کی اور ارشاد فرمایا : برکت والی ہے ، وہ ذات جس نے اسے بچھایا ہے ، اور جس نے اسے پیدا کیا ہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ وہ شخص گھٹنوں کے بل جھک گیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ، میں نے آپ سے سوال کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت ہو گا ، جب حکمرانوں کو رسوا کیا جائے گا ، نجوم کی تصدیق کی جائے گی ، تقدیر کو جھٹلایا جائے گا ، یہاں تک کہ امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے گا ، اور صدقہ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، فحاشی زیادہ ہو جائے گی ، اس وقت تمہاری قوم ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔