مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ ثَانٍ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " سِتٌّ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ : مَوْتُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . فَكَأَنَّمَا انْتُزِعَ قَلْبِي مِنْ مَكَانِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاحِدَةٌ ، [ قَالَ ]وَيَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ ، حَتَّى إنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى عَشَرَةَ آلَافٍ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُهَا " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثِنْتَيْنِ " . قَالَ : " وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ بَيْتَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ " . قَالَ : " وَمَوْتٌ كَقِعَاصِ الْغَنَمِ " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ ، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ ، فَيَجْمَعُونَ لَكُمْ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ كَقَدْرِ حَمْلِ الْمَرْأَةِ ، ثُمَّ يَكُونُونَ أَوْلَى بِالْغَدْرِ مِنْكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ " . ¤ قَالَ : " وَفَتْحُ مَدِينَةٍ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِتٌّ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ مَدِينَةٍ ؟ قَالَ : " قُسْطَنْطِينِيَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ آرام آرام سے وضو کر رہے تھے ، آپ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اے اُمت ! تمہارے درمیان چھ نشانیاں نمودار ہوں گی تمہارے نبی کا وصال فرما جانا ، راوی کہتے ہیں : مجھے یوں لگا جیسا میرا دل اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک نشانی ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : تمہارے درمیان مال پھیل جائے گا ، یہاں تک کہ کسی شخص کو دس ہزار دیا جائے گا ، تو وہ پھر بھی ناراض ہی رہے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دو ہو گئیں ، آپ نے فرمایا : ایک فتنہ آئے گا ، جو تم میں سے ہر ایک شخص کے گھر میں داخل ہو جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تین ہو گئیں ، آپ نے فرمایا : یوں ( عمومی طور پر ) موت واقع ہو گی جیسے بکریوں کی مخصوص بیماری قصاص کی وجہ سے بکریوں کی موت واقع ہوتی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چار ہو گئیں ، پھر تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو گا ، وہ نو ماہ تک تمہارے خلاف اکٹھے ہوتے رہیں گے ، یہ وہ مدت ہے جتنا کسی عورت کو حمل ہوتا ہے ، پھر وہ عہد شکنی میں پہل کریں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ پانچ ہو گئیں ، پھر آپ نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چھٹی نشانی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سا شہر ہے ؟ آپ نے فرمایا : قسطنطنیہ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔