حدیث نمبر: 12402
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِي نَاسٌ مِنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ يُرِيدُونَ رَجُلًا عِنْدَ الْبَيْتِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَيَلْحَقُ بِهِمْ مَنْ تَخَلَّفَ فَيُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَهُمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِمَنْ كَانَ أُخْرِجَ مُسْتَكْرَهًا ؟ قَالَ : " يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے جو بیت اللہ کے قریب ایک شخص کے پاس کے جانا چاہتے ہوں گے ، یہاں تک کہ وہ جب بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، ان کے پیچھے والے لوگ جب ان تک پہنچیں گے ، تو انہیں بھی وہ چیز لاحق ہو گی جو ان لوگوں کو لاحق ہوئی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا کیا بنے گا ، جسے زبردستی لایا گیا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مصیبت دوسروں کو لاحق ہوئی ہے ۔ وہ انہیں بھی لاحق ہو گی اور پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق زندہ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ضعیف کہا: ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں آرام فرما رہے تھے اسی دوران آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ، آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ، آپ نے انا اللہ وانا الیہ راجعون کیوں پڑھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی امت کے ایک لشکر کے حوالے سے یہ پڑھا ہے ، جو شام کی طرف سے آئیں گے وہ بیت اللہ کا قصد رکھتے ہوں گے ، اور ایک شخص کے خلاف آئیں گے ، اور وہ اس تک نہیں پہنچ پائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ ذوالحلیفہ کے بیداء کے مقام پر ہوں گے ، تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، اگرچہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اُن سب کو کیوں دھنسا دیا جائے گا ، جب کہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي إِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا شَأْنُكَ تَسْتَرْجِعُ ؟ قَالَ : " لِجَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ ، لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُمْ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِيِ الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ قَالَ : " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ بیان کرتی ہیں کہ : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک کر (سیدھے ) بیٹھ گئے اور “” إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ “” پڑھنے لگے ۔ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! کیا بات ہے ، آپ استرجاع (إِنَّا لِلَّهِ ۔ ۔ ۔ ) کیوں پڑھ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” میری امت کے ایک لشکر کی وجہ سے جو شام کی طرف سے آئے گا اور بیت اللہ کا قصد کرے گا ، ایک ایسے شخص (کو پکڑنے ) کے لیے جو ان کی مخالفت اور دفاع کر رہا ہوگا ، یہاں تک کہ جب وہ ذو الحلیفہ کے قریب بیداء (مقام) پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، جبکہ ان کی نیتیں اور احوال مختلف ہوں گے “ ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، ان سب کو ایک ساتھ کیسے دھنسا دیا جائے گا جبکہ ان کی نیتیں اور مقاصد مختلف ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” (ہاں ! لیکن ) ان میں سے کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں مجبور کر کے لایا گیا ہوگا ، ان میں سے کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں مجبور کر کے لایا گیا ہوگا ، ان میں سے کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں مجبور کر کے لایا گیا ہوگا (لہٰذا قیامت کے دن سب کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا) “ ۔
اسے امام ابویعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ہے جو حسن الحديث ہے لیکن اس میں کچھ ضعف بھی موجود ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6937) اخرجه احمد فى المسند (259/6)»