مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ حُجَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ - قَالَ : أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : بِعَرَفَةَ ، فَأَتَيْتُهُ فَذَهَبْتُ أَدْنُو مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ عُنُقُ رَاحِلَتِي وَعُنُقُ رَاحِلَتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَبِّئْنِي بِمَا يُنْجِينِي مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ . قَالَ : " اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ النَّاسُ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُجَيْرٌ ، وَهُوَ ابْنُ الصَّحَابِيِّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤حجیر نے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے ، جن کی کنیت ابومشفق ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں مکہ آیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ہیں ، میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا ، یہاں تک کہ میری اونٹنی کی گردن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی گردن سے ملنے لگی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے ، جو مجھے اللہ کے عذاب سے بچا دے ، اور جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو ! کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، فرض نماز ادا کرو ، فرض زکوٰۃ ادا کرو ، حج اور عمرہ کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اس بات کا جائزہ لو کہ تم جس چیز کو پسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا ہی کرو ، اور جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو تم بھی لوگوں کے ساتھ ویسا نہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ” حجیر“ ہیں ، جو صحابی کے صاحبزادے ہیں ، لیکن میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔