مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَهْدِيِّ . باب: مہدی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ ، يُبْعَثُ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا ، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ ، يُقَسِّمُ الْمَالَ صِحَاحًا " . قَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا صِحَاحًا ؟ قَالَ : " بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غِنَاءً ، وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ ، حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ : مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ ؟ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَيَقُولُ : أَنَا . فَيَقُولُ : إِئِتِ السَّدَّانَ - يَعْنِي الْخَازِنَ - فَقُلْ لَهُ : إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا . فَيَقُولُ لَهُ : احْثُ ، حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَائْتَزَرَهُ نَدِمَ ، فَيَقُولُ : كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ " . قَالَ : " فَيَرُدُّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ ، فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ، ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ " . أَوْ قَالَ : " ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں مہدی کے بارے میں خوشخبری دیتا ہوں ، اسے اختلاف کے وقت بھیجا جائے گا ، جسے لوگوں کے اختلاف اور زلزلوں کے وقت بھیجا جائے گا ، وہ زمین کو انصاف اور عدل سے یوں بھر دے گا ، جس طرح پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، آسمان کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے اس سے راضی ہوں گے اور وہ صحیح طریقے سے مال تقسیم کرے گا ، ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : صحیح طریقے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : لوگوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر کرے گا اور اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا اور اس شخص کا عدل ان لوگوں کے لئے کفایت کرے گا ، یہاں تک کہ وہ منادی کو حکم دے گا ، وہ منادی اعلان کرے گا اور کہے گا : کسی شخص کو مال کی ضرورت ہے ؟ تو لوگوں میں سے صرف ایک شخص کھڑا ہو گا اور وہ کہے گا : مجھے ( ضرورت ) ہے ، تو مہدی کہے گا : تم خازن کے پاس چلے جاؤ اور اس سے کہو : مہدی تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال دو ! وہ شخص اس سے کہے گا ، تو خازن کہے گا : تم دونوں ہاتھوں سے اس کو بھر لو ، وہ ان کو بھرے گا ، پھر وہ ندامت کا شکار ہو کر یہ کہے گا : کیا میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سب سے زیادہ حریص ہوں ، یا جو چیز ان کے لئے پوری آ رہی ہے وہ مجھے کیوں نہیں پوری آ رہی ؟ پھر وہ اس مال کو واپس کرنا چاہے گا ، تو اس سے وہ مال قبول نہیں کیا جائے گا ، اور اس سے یہ کہا: جائے گا : ہم جو چیز دیدیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے ، تو مہدی اس طرح سات سال یا آٹھ سال یا نو سال تک حکمران رہے گا ، پھر اس کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے بعد حیات میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔