مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ فِتْنَةِ الْوَلِيدِ . باب: ولید کا فتنہ
حدیث نمبر: 12392
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : وُلِدَ لَأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ فَسَمَّوْهُ الْوَلِيدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمَّيْتُمُوهُ بِاسْمِ فَرَاعِنَتِكُمْ ، لَيَكُونَنَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْوَلِيدُ ، لَهُوَ أَشَرُّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ فِرْعَوْنَ لِقَوْمِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، جس کا نام ان لوگوں نے ولید رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے اس کا نام اپنے فرعونوں کے نام کے مطابق رکھا ہے ، اس اُمت میں ایک شخص ہو گا ، جس کا نام ولید ہو گا ، وہ اس امت کے لئے اس سے زیادہ برا ہو گا ، جتنا فرعون اپنی قوم کے لئے برا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔