مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي فِتْنَةِ الْعَجَمِ . باب: عجمیوں کے فتنوں کا بیان
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حِينَ جَاءَهُ كِتَابٌ مِنْ عَامِلِهِ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِالتُّرْكِ وَهَزَمَهُمْ وَكَثْرَةَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ وَكَثْرَةَ مَنْ غَنِمَ ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يُكْتَبَ إِلَيْهِ : قَدْ فَهِمْتُ مِمَّا قُلْتَ مَا قَتَلْتَ وَغَنِمْتَ ، فَلَا أَعْلَمَنَّ مَا عُدْتَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا قَاتَلْتَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي . قُلْتُ لَهُ : لِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَتَظْهَرَنَّ التُّرْكُ عَلَى الْعَرَبِ حَتَّى تُلْحِقَهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ " . فَأَنَا أَكْرَهُ قِتَالَهُمْ لِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤معاویہ بن حدیج بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب ان کے پاس ان کے ایک گورنر کا خط آیا ، جس میں اس نے یہ بتایا تھا کہ اس نے ترکوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ہے اور ان کے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا ہے اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ہے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر غصے میں آ گئے ، پھر انہوں نے حکم دیا کہ اس گورنر کو یہ خط لکھا جائے کہ تم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم نے اتنا قتل کیا ہے اور اتنا مال غنیمت حاصل کیا ہے ، لیکن اب مجھے یہ پتہ نہ چلے کہ تم نے دوبارہ یہ کام کیا ہے ، تم نے ان کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کرنی ، جب تک تمہارے پاس میرا حکم نہیں آتا ، راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : اے امیرالمؤمنین ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ترک ، عربوں پر ضرور غالب آ جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں شیح اور قیصوم ( نامی بوٹیوں ) کے اُگنے کی جگہ تک پہنچا دیں گے ۔ “ ( سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اس لئے میں اُن لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔