حدیث نمبر: 12381
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْحَجَفُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، أَمَّا السَّائِقَةُ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلِكُ بَعْضٌ ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَيُصْطَلَمُونَ [ كُلُّهُمْ ] مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " التُّرْكُ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَرْبِطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سَوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ قَالَ : وَكَانَ بُرَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بَعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَةُ ، يَعُدُّ ذَلِكَ لِلْهَرَبِ مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَلَاءِ مِنَ [ أُمَرَاءِ ] التُّرْكِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میری امت کو ایک قوم ہانک کر لے جائے گی ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہوں گے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا : یہاں تک کہ تم ان لوگوں کو جزیرہ عرب سے ملا دو گے ، جہاں تک پہلے والوں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو بھاگے گا وہ نجات پا جائے گا اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے بعض نجات پا جائیں گے اور بعض ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے اور جہاں تک تیسروں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو باقی بچے گا ، وہ سب ختم کر دیے جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ترک ہوں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ اپنے گھوڑے مسلمانوں کی مساجد کے ستونوں کے ساتھ ضرور باندھیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے ساتھ دو یا تین اونٹ رکھتے تھے اور سفر کا ساز و سامان مشکیزے رکھتے تھے ، وہ اس کو اس لئے تیار رکھتے تھے تاکہ بھاگنے کا وقت آئے تو بھاگ سکیں ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ترک حکمرانوں کی طرف سے آزمائش کے بارے میں بات سنی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3367) اخرجه أحمد فى المسند (348/5)»