مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
وَعَنْ فَيْرُوزٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي رَمَضَانَ صَوْتٌ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي أَوَّلِهِ أَوْ فِي وَسَطِهِ أَوْ فِي آخِرِهِ ؟ قَالَ : " بَلْ فِي النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ يَكُونُ صَوْتٌ مِنَ السَّمَاءِ يُصْعَقُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا [ يَخْرِسُ سَبْعُونَ أَلْفًا ، يَعْمَى سَبْعُونَ أَلْفًا ] وَيُصَمُّ سَبْعُونَ أَلْفًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنِ السَّالِمُ مِنْ أَمُّتِكَ ؟ قَالَ : " مَنْ لَزِمَ بَيْتَهُ وَتَعَوَّذَ بِالسُّجُودِ وَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ لِلَّهِ . ثُمَّ يَتْبَعُهُ صَوْتٌ آخَرُ ، فَالصَّوْتُ الْأَوَّلُ صَوْتُ جِبْرِيلَ وَالثَّانِي صَوْتُ الشَّيْطَانِ ، فَالصَّوْتُ فِي رَمَضَانَ ، وَالْمَعْمَعَةُ فِي شَوَّالٍ ، وَتُمَيِّزُ الْقَبَائِلَ فِي ذِي الْقِعْدَةِ ، وَيُغَارُ عَلَى الْحَاجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ وَمَا الْمُحَرَّمُ ! أَوَّلُهُ بَلَاءٌ عَلَى أُمَّتِي وَآخِرُهُ فَرَجٌ لِأُمَّتِي ، الرَّاحِلَةُ [ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ ] بِقَتَبِهَا يَنْجُو عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ دَسْكَرَةٍ تَغُلُّ مِائَةَ أَلْفٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان میں ایک آواز ہو گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس کے ابتدائی حصے میں ہو گی یا درمیانی حصے میں ہو گی یا آخری حصے میں ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ رمضان کے نصف حصے میں ہو گی ، جب نصف حصے والی رات آئے گی ، وہ جمعہ کی رات ہو گی ، اُس میں آسمان سے ایک آواز آئے گی ، اس میں ستر ہزار لوگوں کو بے ہوش کیا جائے گا ، ستر ہزار گونگے ہو جائیں گے ، ستر ہزار اندھے ہو جائیں گے ، ستر ہزار بہرے ہو جائیں گے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت میں سے سلامتی والا کون ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے گھر میں رہے گا اور سجدوں کے ذریعے پناہ مانگے گا اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بلند آواز میں بیان کرے گا ، پھر اس کے بعد ایک اور آواز آئے گی ، پہلی آواز سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی آواز ہو گی اور دوسری آواز شیطان کی آواز ہو گی ، ایک آواز رمضان میں ہو گی ، اور پھر ایک ” معمعہ “ ( جنگ کے دوران کی آوازیں ) شوال میں ہو گی ، ذی القعدہ میں قبائل کے درمیان امتیاز ہو جائے گا ، ذوالحج میں حاجیوں پر حملہ کیا جائے گا اور محرم ، محرم کیا ہے ؟ اس کا ابتدائی حصہ میری امت کے لئے آزمائش ہو گا اور اس کا آخری حصہ میری امت کے لئے کشادگی ہو گی ، اس زمانے میں ایک سواری ، جس پر اس کا ساز و سامان موجود ہو اور مؤمن اس پر سوار ہو کر نجات پا لے ، وہ مومن کے لئے اس ساز و سامان سے زیادہ بہتر ہو گی ، جس کی قیمت ایک لاکھ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔