حدیث نمبر: 12351
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، أَلَا وَأَنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَلَتَتَّبِعُنِّي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَفْظُهُ فِيهِ : عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَتَحَدَّثُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، أَلَا وَإِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَتَتَّبِعُنِّي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا " . ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ حَتَّى بَلَغَ لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ " ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَا تَبْرَحُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ ، لَا يُبَالُونَ خِذْلَانَ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَلَى ذَلِكَ " . ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ : يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ، حالانکہ میں تم سب سے پہلے وفات پا جاؤں گا اور تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گے ، اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : سیدنا معایہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ باتیں کر رہے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ؟ خبردار ! میں تم سب سے پہلے انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد گروہوں میں تقسیم ہو کے ایک دوسرے کو فنا کرو گے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم فرما دو ! وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے ، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے ، تم پر عذاب بھیج دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” ہر خبر ( کے واقع ہونے ) کا متعین وقت ہے ، اور عنقریب تم لوگ جان لو گے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جنگ کرتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کو رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ انہیں رسوا نہیں کر سکے گا اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ بھی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اسی طرح کی صورت حال میں اللہ کا حکم ( یعنی قیامت ) آ جائے گا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے عیسیٰ ! بے شک میں تمہیں وفات دوں گا اور تمہیں اپنی طرف بلند کر لوں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کر دوں گا ، جنہوں نے کفر کیا ، اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی انہیں کفر کرنے والوں کے اوپر کر دوں گا اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12351
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7366)»