حدیث نمبر: 12350
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ السَّكُونِيِّ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أَتَيْتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : وَبِمَاذَا ؟ قَالَ : " بِمُسَخِّنَةٍ " . قَالَ : فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَمَا فُعِلَ بِهِ ؟ قَالَ : " رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ ، وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى تَقُولُوا : مَتَى ؟ وَسَتَأْتُونِي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتَانِ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران کسی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آسمان سے کھانا آیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : کس چیز میں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ہنڈیا میں ، اُس نے دریافت کیا : کیا اس میں آپ سے بچ کے بھی کچھ ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اٹھا لیا گیا اور پھر میری طرف یہ بات وحی کی گئی کہ میں انتقال کر جاؤں گا ، تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور تم بھی میرے بعد تھوڑا عرصہ رہو گے ، یہاں تک کہ تم لوگ کہو گے : کتنا عرصہ ہوا ہے ؟ پھر تم میرے پاس مختلف گروہوں کی شکل میں آؤ گے کہ تم نے ایک دوسرے کو ہلاک کیا ہو گا اور قیامت سے پہلے دو شدید قسم کی موتیں ہوں گی اور اس کے بعد کئی سال زلزلے آتے رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے ، امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6861) اخرجه احمد فى المسند (104/4)»