❮
❯
حدیث نمبر: 12345
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ " . قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . قَالَ : " بَلَى ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، قَالَ سُفْيَانُ : الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تَنْصِبُ : أَيْ تَرْتَفِعُ .
محمد محی الدین

سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اسلام کی کوئی آخری حد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب عربوں یا عجمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی گھرانے کے افراد کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے گا ، تو ان پر اسلام کو داخل کر دے گا ، پھر فتنے واقع ہوں گے ، یوں جیسے بادل ہوتے ہیں ، اس شخص نے عرض کی : اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں ، اگر اللہ نے چاہا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، پھر تم ان میں دوبارہ سیاہ رنگ کے سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے ، اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے ۔ “ سفیان کہتے ہیں : سیاہ رنگ کے سانپ کے کھڑے ہونے سے مراد ، اس کا بلند ہونا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (197/19) اخرجه احمد فى المسند (477/3) ، أخرجه صحيح البخاري برقم: 2634، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1888، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 1660، وأخرجه سنن النسائي برقم: 3105، وأخرجه مسند أحمد برقم: 10741، 10929، 11428، 15487، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20761، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 6154، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 80/5»