حدیث نمبر: 1230
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَقَالَ : " هَذَا وُضُوءٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِهِ " ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ فَقَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ضَاعَفَ اللَّهُ أَجَرَهُ مَرَّتَيْنِ " ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَقَالَ : " هَذَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ، وَهَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللَّهِ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ مَرْحُومٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ . وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ . وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ مَتْرُوكٌ ، وَأَبُوهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین

معاویہ بن قرہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ، ایک مرتبہ وضو کیا ، اور پھر ارشاد فرمایا : یہ وہ وضو ہے ، جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ، دو مرتبہ وضو کیا ، اور ارشاد فرمایا : جو شخص اس طرح وضو کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے دُگنا ثواب عطا کرتا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ وضو کیا اور ارشاد فرمایا : یہ اچھی طرح وضو کرنا ہے ، اور یہ میرا ، اور اللہ تعالیٰ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وضو کا طریقہ ہے ، جو شخص اس طرح وضو کرتا ہے اور پھر یہ پڑھتا ہے : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اُس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، کہ وہ جس میں سے چاہئے ، اندر داخل ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : مرحوم نامی راوی نے
یہ روایت اسی طرح عبدالرحیم بن زید کے حوالے سے ، ان کے والد کے حوالے سے ، معاویہ بن قرہ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے نقل کی ہے جبکہ دوسرے راوی نے اسے معاویہ بن قرہ کے حوالے سے ابن عمرو سے نقل کیا ہے ، اور معاویہ بن قرہ کے حوالے سے عبید بن عمیر کے حوالے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، عبدالرحیم بن زید نامی راوی متروک ہے ، اور اس کے باپ کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف