حدیث نمبر: 1231
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَقَامِهِ إِلَى مَكَّةَ ، وَمَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا ثُمَّ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَمْ يَضُرَّهُ ، وَمَنْ تَوَضَّأَ فَقَالَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ - كُتِبَ فِي رَقٍّ ، ثُمَّ جُعِلَ فِي طَابَعٍ ، فَلَمْ يُكْسَرْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ النَّسَائِيَّ قَالَ بَعْدَ تَخَرُّجِهِ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ : هَذَا خَطَأٌ ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفًا . ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ وَغُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْقُوفًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سورہ کہف کی تلاوت کرے گا ، تو قیامت کے دن اُس کے لئے اتنا نور ہو گا ، جتنا اُس کی رہائش گاہ سے مکہ تک کا فاصلہ ہے ، اور جو شخص اس سورت کی آخری دس آیات کی تلاوت کرے گا ، تو اگر دجال بھی خروج کرے ، تو وہ بھی اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، اور جو شخص وضو کرنے کے بعد یہ کلمات پڑھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! تیری حمد کے ہمراہ ( ہم تیرے پاک ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ) ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ایک صحیفے پر ، یہ کلمہ نوٹ کر کے اُس پر مہر لگا دی جائے گی ، جو قیامت تک نہیں توڑی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” الیوم واللیلہ “ ہمیں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد یہ بات کہی ہے : یہ غلط ہے ، درست یہ ہے کہ
یہ روایت موقوف ہے ، پھر انہوں نے اس روایت کو سفیان ثوری اور غندر کے حوالے سے ، شعبہ سے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1231
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحیح