مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَنْ عَمِّهِ - قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ ، وَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ خِطَامِهَا ، فَدَفَعْتُ عَنْهُ . فَقَالَ : " دَعُوهُ ، فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ " . قُلْتُ : نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ . قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ : تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ ، وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ . خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالٍ ، بَعْضُهَا ثِقَاتٌ ، عَلَى ضَعْفٍ فِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى كَثِيرٍ . ¤مغیرہ بن سعد ، اپنے والد ، یا شاید اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرفہ میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کی اوٹنی کی لگام پکڑ لی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) مجھے آپ سے پیچھے کیا جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! یہ کسی اہم کام کے سلسلے میں آیا ہو گا ۔ میں نے عرض کی : آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے ، جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جو مجھے جہنم سے دور کر دے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، اور پھر یہ ارشاد فرمایا : تم نے مختصر ، لیکن اہم اور طویل سوال کیا ہے ، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، تم نماز ادا کرو ، زکوۃ دو ، بیت اللہ کا حج کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرو ، جس کے بارے میں تم یہ پسند کرتے ہو ، کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کریں ، اور اپنی ذات کے حوالے سے ، جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو ، تو تم لوگوں کے ساتھ بھی ویسا نہ کرو ، اور اب اونٹنی کی لگام چھوڑ دو ! ۔
یہ روایت ( امام أحمد کے صاحبزادے ) عبداللہ نے اپنی ” زیادات“ میں نقل کی ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسناد اور مختلف رادیوں کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جن میں سے بعض ثقہ ہیں ، تاہم اس میں یحییٰ بن عیسیٰ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔