حدیث نمبر: 12288
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ دَفَنَهُ قَوْمُهُ فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ ضَوْجَيْ جَبَلٍ ، وَرَمَوْا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ ، فَأَكَلَتْهُ السِّبَاعُ . قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَخْبَرَ أَنَّ الْأَرْضَ لَفَظَتْهُ قَالَ : " أَمَا إِنَّ الْأَرْضَ تَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرُّ مِنْهُ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُرِيَكُمْ عِظَمَ الدَّمِ عِنْدَهُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ ضُمَيْرَةَ عَقِبَ قِصَّةِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : اس قتل کرنے والے شخص کا جب انتقال ہوا اور اس کی قوم کے افراد نے اسے دفن کیا ، تو زمین نے اُسے باہر پھینک دیا ، انہوں نے دوبارہ اسے دفن کیا ، تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، تو ان لوگوں نے اسے پہاڑ کے درمیان میں ڈال دیا اور اس پر پتھر پھینک دیے ، پھر درندوں نے اُسے کھا لیا ۔ ابن ابوزناد بیان کرتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین اُس شخص کو بھی قبول کر لیتی ہے ، جو اس سے زیادہ برا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنی بارگاہ میں خون کی اہمیت تمہیں دکھا دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے ضمیرہ کے حالات میں محلم بن جثامہ کے واقعہ کے بعد نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع