مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ الْقِتَالِ عَلَى الْمُلْكِ . باب: حکومت کی خاطر جنگ کرنا
وَعَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ ، يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . قَالَ : قُلْنَا لَهُ : لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ . قَالَ : فَإِنَّهُ سَيَكُونُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثَرْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ثروان بن ملحان بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی احادیث بیان کیجئے ، جو آپ نے فتنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے ، جو حکومت حاصل ( کرنا چاہیں ) گے اور وہ اس کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے کہا: اگر آپ کی بجائے کسی اور نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہوتی ، تو ہم نے اس کی بات کی تصدیق نہیں کرنی تھی ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ثروان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔