مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ كَرِهَ الْفِتَنَ وَمَنْ رَضِيَ بِهَا . باب: اس شخص کا بیان جو فتنوں کو ناپسند کرتا ہے اور اس کا بیان ، جو ان سے راضی ہوتا ہے
وَعَنْ عَوْنٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ - قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ ، فَمَنْ رَضِيَهَا مِمَّنْ غَابَ عَنْهَا فَهُوَ كَمَنْ شَهِدَهَا ، وَمَنْ كَرِهَهَا مِمَّنْ شَهِدَهَا فَهُوَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا . فَأَعْجَبَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَوْنٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَالْمَسْعُودِيُّ اخْتَلَطَ . ¤عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : ” عنقریب کچھ مشتبہ امور آئیں گے اور جو شخص ان کے پاس موجود نہ ہونے کے باوجود ان سے راضی ہو ، تو وہ ان کے پاس موجود ہونے والے کی مانند ہو گا ، اور جو شخص اُن کے پاس موجود ہو ، لیکن پھر بھی انہیں ناپسند کرے ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود نہ ہو ۔ “ تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو یہ بات اچھی لگی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور مسعودی نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔