مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ كَرِهَ الْفِتَنَ وَمَنْ رَضِيَ بِهَا . باب: اس شخص کا بیان جو فتنوں کو ناپسند کرتا ہے اور اس کا بیان ، جو ان سے راضی ہوتا ہے
عَنِ الْحُسَيْنِ - يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَهِدَ أَمْرًا فَكَرِهَهُ كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهُ ، وَمَنْ غَابَ عَنْ أَمْرٍ فَرَضِيَ بِهِ كَانَ كَمَنْ شَهِدَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَكَذَلِكَ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ الصَّبَّاغُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ثِقَةٌ . ¤سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی معاملے میں موجود ہو اور اسے ناپسند کرے ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود نہ ہو ، اور جو شخص کسی معاملے میں موجود نہ ہو اور وہ اس سے راضی ہو ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شبیب ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، یوسف بن میمون صباغ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ایک راوی منصور بن ابومزاحم ہے اور وہ ثقہ ہے ۔