حدیث نمبر: 12259
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعَمَدَ بِهِ إِلَىالشَّامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْطَاكِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ میرے سر سے ایک لمبی کتاب اٹھائی گئی ہے ، میں نے یہ گمان کیا کہ یہ شاید یہ چلی جائے گی ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، پھر وہ شام لے جائی گی ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے ، تو ایمان کی جگہ ” شام “ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عامر انطاکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3332)»