مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى الْحَقِّ . باب: اُس امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا
وَعَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ ، وَهُمْ كَالْإِنَاءِ بَيْنَ الْأَكَلَةِ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَ : " بِأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَنَّ الرَّمَلَةَ هِيَ الرَّبْوَةُ وَذَلِكَ أَنَّهَا مُغْرِبَةٌ وَمُشْرِقَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا مره بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا اور وہ ان لوگوں پر غالب رہیں گے ، جو ان کے مقابلے میں آئیں گے اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی مانند ہوں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا ، تو وہ اسی حالت میں ہوں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس کے اطراف میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے یہ بات بھی بیان کی ہے : ” رملہ “ سے مراد ٹیلہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مغربی حصہ ہے اور ایک مشرقی حصہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔