کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اُس امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا
حدیث نمبر: 12245
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : يَا أَهْلَ الشَّامِ ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ - قَالَ شُعْبَةُ : يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ " . وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : انہوں نے فرمایا : اے اہل شام ! مجھے ایک انصاری نے یہ حدیث بیان کی ہے ، یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ، اُن انصاری سے مراد ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ ، ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا ۔ “ ( سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے اہل شام ! مجھے امید ہے کہ اس سے مراد تم لوگ ہو گے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی ابوعبداللہ شامی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3319) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4967) أخرجه احمد فى المسند (369/4)»
حدیث نمبر: 12246
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا تُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ،
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ دین مسلسل غالب رہے گا اور مسلمانوں کا ایک گروہ اس کی خاطر جنگ کرتا رہے گا ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی ( یعنی قیامت قائم ہونے تک ایسا ہوتا رہے گا ) ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12246
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (106/5)»
حدیث نمبر: 12247
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَهُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ نَفْسِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت جو سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، ایک شخص کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، اس میں بھی اس کی مانند مذکور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں وہ روایت صحیح میں ، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12247
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (98/5)»
حدیث نمبر: 12248
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الدِّينِ ظَاهِرِينَ ، لِعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَ : " بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وِجَادَةً عَنْ خَطِّ أَبِيهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَفِي فَضْلِ أَهْلِ الشَّامِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کا ایک گروہ ہمیشہ دین پر گامزن رہے گا ، اور وہ لوگ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ اُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، البتہ انہیں کچھ شدت ( یعنی تنگی اور مشقت ) کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ( یعنی قیامت ) اُن کے پاس آئے گا ، تو وہ اسی حالت میں ہوں گے ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیت المقدس کے اطراف و اکناف میں ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے ” وجادۃ “ کے طور پر ، اپنے والد کی تحریر سے نقل کی ہے ، اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) اہل شام کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث ذکر ہوں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7643)»
حدیث نمبر: 12249
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12249
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12250
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، فَيَقُولُ إِمَامُهُمْ : تَقَدَّمْ ، فَيَقُولُ : أَنْتَ أَحَقُّ ، بَعْضُكُمْ أُمَرَاءُ عَلَى بَعْضٍ ، أَمْرٌ أَكْرَمَ بِهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت ہمیشہ حق پر گامزن رہے گی ، یہاں تک کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تشریف لائیں گے ، تو اُن لوگوں کا امام یہ کہے گا : آپ آگے ہوں ! تو وہ یہ فرمائیں گے : تم زیادہ حق رکھتے ہو ، تم ایک دوسرے کے امیر ہو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عزت عطا کی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12250
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2078)»
حدیث نمبر: 12251
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيُدْرِكُ رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَيَشْهَدُونَ قِتَالَ الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور وہ دجال کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12251
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2821)»
حدیث نمبر: 12252
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ - أَوْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ - عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ قَمِيرَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ معاملہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میری امت کا ایک گروہ اس معاملے ( یعنی دین ) پر گامزن رہے گا اور جو شخص اُن کی مخالفت کرے گا ، اس کا اختلاف انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم ان لوگوں کے پاس آ جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن محمد بن قمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3320)»
حدیث نمبر: 12253
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهُ عَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ ، لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبَّادٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دمشق کے دروازوں کے پاس ، میری امت کا ایک گروہ مسلسل جنگ کرتا رہے گا ، اور بیت المقدس کے دروازوں کے پاس اور اس کے اردگرد ایک گروہ جنگ کرتا رہے گا ، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس کی کوشش ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی اور وہ لوگ قیامت کے دن تک غالب رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عباد ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12253
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12254
وَعَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ ، وَهُمْ كَالْإِنَاءِ بَيْنَ الْأَكَلَةِ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَ : " بِأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَنَّ الرَّمَلَةَ هِيَ الرَّبْوَةُ وَذَلِكَ أَنَّهَا مُغْرِبَةٌ وَمُشْرِقَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مره بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا اور وہ ان لوگوں پر غالب رہیں گے ، جو ان کے مقابلے میں آئیں گے اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی مانند ہوں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا ، تو وہ اسی حالت میں ہوں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس کے اطراف میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے یہ بات بھی بیان کی ہے : ” رملہ “ سے مراد ٹیلہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مغربی حصہ ہے اور ایک مشرقی حصہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12254
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (317/20)»